• 13
  • Oct
  • 0
Author

بچپن کی بھول، جوانی کا خون

خدا نے انسان کو طاقتور بناکر اس لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ وہ عورت سے مل کر اور نئی پود لگاکر قدرت کا سونپا ہوا کام پورا کرسکے۔کسب معاش کی تلاش میں دن بھر  انسان کو جو تکالیف اور پریشانیاں ملتی ہیں، وہ اِن سب کو رات کی آرام گاہ میں بھول کر ہر نئی صبح پھر سے تازہ دم اور چست ہوکر اپنا کام شروع کرتا ہے۔ صحیح جانکاری اور صلاح لئے بغیر شادی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ہمارے پاس ہر روز بہت سے ایسے   ”پرسنل لیٹر“ آتے ہیں جن میں بہت سے مرد اپنی کمزوری اور شادی شدہ زندگی کی پریشانیوں کی وجہ سے خودکشی کرنے تک کا ذکر کرتے ہیں، لیکن جو خودکشی نہیں کرتے وہ گھر سے بھاگ ضرور جاتے ہیں اور ان کی بیویاں لاج شرم چھوڑکر پرائے مردوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ یہ سب اس لئے ہوتا ہے کہ وقت پر انھیں صحیح راستہ نہیں ملتا۔ اسکولوں میں انھیں یہ بات تو بتائی جاتی ہے کہ گندے ناخون کو منہ سے کاٹنا نہیں چاہئے، کیوں کہ گندے ناخون کے ذریعے گندگی پیٹ میں جاکر بیماریاں پیدا کرتی ہے، لیکن یہ کوئی نہیں سمجھاتا کہ گندے خیالات سے انسان کا جسمانی و ذ  ہنی کتنا نقصان ہوتا ہے اور اس کے کتنے بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس حصہ سے انسان کو سب سے زیادہ سکھ کا ملنا طے ہے۔ اسی حصہ کو کچی عمر میں تکیہ یا ہاتھ کی رگڑ سے نکال دیا جاتا ہے اور جس منی نے مرد کے اندر طاقت اور پھرتی کا پھیلاؤ کرنا ہوتا ہے، اس کو انہی باتوں کے ذریعے برباد کرکے اپنی زندگی کو منجھدار میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

Avatar
admin

Leave a Comment