• 18
  • Oct
  • 0
Author

یونانی نسخہ

صدیوں سے یونانی علاج کو ہر طبقہ کی طرف سے یہاں تک کہ دوسرے ممالک میں بھی اہمیت ملتی رہی ہے، کیونکہ آج کے جدید انگریزی علاج عورت مرد کی جن تکلیفوں کا مداوا نہیں کرسکتے، انہں تکلیفوں کا علاج طب یونانی میں آسان ہے۔ یونانی طریقۂ علاج سے بہت سی جسمانی خرابیوں کا بھی کامیاب علاج ممکن ہے۔
ہزاروں سال پہلے جب ایلوپیتھی (انگریزی) علاج کا رواج نہیں تھا، تب انسان کی سبھی بیماریوں کا علاج یونانی طریقوں سے ہی ہوتا تھا، جس سے آدمی پوری طرح آرام آرام پاجاتا تھا۔ آج کے دور میں بھی ان ہی جڑی بوٹیوں، کشتوں اور قیمتی بھسموں وغیرہ کے نسخے سائنسی طریقے سے تیار کئے جاتے ہیں، جن کا اثر بھی کافی تیز ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے لالچ میں زیادہ پیسہ کمانے کی خاطر اصلی جڑی بوٹیوں کی جگہ نقلی جڑی بوٹیوں اور رنگوں کا استعمال کرکے اپنے علاج کو راجہ، مہاراجوں والا علاج بتاکر یونانی علاج کو بدنام کردیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ پہلے یونانی علاج صرف راجاؤں، مہاراجاؤں کا ہی کیا جاتا تھا، کسی عام آدمی کا نہیں۔ انھیں سب باتوں کو دھیان میں رکھ کر ہم نے صحیح یونانی طریقے سے اصلی جڑی بوٹیوں، قیمتی کشتوں (بھسموں) سے علاج تیار کرکے ان ناامید لوگوں کی خدمت کرنے کا عزم کیا ہے، جو کئی طرح سے مرضوں میں گھرکر اپنی زندگی کو دوزخ بناچکے ہیں اور راجہ مہاراجہ والے علاجوں کی سکت نہیں رکھتے۔ جو لوگ جان کر یا انجانے میں بھول کر اپنی ہی غلطیوں سے اپنے جسم کو کھوکھلا بناچکے ہیں اور مہنگا علاج بھی برداشت نہیں کرسکتے تو وہ ناامید نہ ہوں۔ ہم سے ملیں یا تفصیل سے اپنی حالت لکھیں۔ ہم انھیں صحیح راستہ بتاکر بھٹکے ہوئے اور ناامید مریضوں کو فائدہ حاصل کراکر اُنھیں صحیح راستہ دے سکیں گے۔ آج کے دور میں پہلے تو اصلی چیزوں کا فراہم ہونا ہی مشکل ہے اور اگر حاصل ہو بھی جائیں تو کون سا حکیم اتنی محنت اور اتنا سرمایہ خرچ کرے گا، لیکن ہمارے سامنے صرف مریض کے فائدہ کی بات رہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مریض کا مرض دور ہو اور زندگی بھر سکھی رہے، تاکہ ہماری شہرت میں بھی اضافہ ہو، اس لئے ہم اسی مقصد کو لے کر اچھے سے اچھا علاج تیار کرتے ہیں۔ دراصل کامیاب علاج وہی ہے جس سے مرض عمر بھر کے لئے دور ہوجائے اور مریض کو ایک دم صحت مند بناسکے۔ ایسے زوداثر اور طاقتور علاجوں کا بیان پرانی کتابوں میں درج ہے۔ ہمارے علاج کی خاص بنیاد بھی یہی کتابیں ہیں۔

Avatar
admin

Leave a Comment