• 14
  • Oct
  • 0
Author

منی کس طرح کی ہونی چاہئے

منی کے بارے میں عام طور پر یہی خیال ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ گاڑھی اور لیس دار ہونی چاہئے۔ پتلے اور چپچپے پانی جیسی منی کمزوری اور مرض کی وجہ مانی جاتی ہے، کیونکہ پتلی منی میں کم ٹھہرنے اور جماع میں طاقت کی کمی مانی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پتلی منی سے ٹھہرنے میں کامیابی اور عورت کی خواہش پوری نہیں ہوپاتی اور نہ ہی مرد میں پورا جوش ہوپاتا ہے۔ اگر کسی کو پتلی منی کی شکایت ہو تو اسے جسمانی کمزوری بھی محسوس ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس میں کام کی خواہش کی کمی بھی پائی جاتی ہے، اس لئے ایسے مرد کو کسی اچھے ڈاکٹر یا حکیم سے اپنی منی کی جانچ کراکر اس کا علاج کرالینا چاہئیے۔ حکیموں کے پاس اس طرح کی بہت سی دوائیاں موجود ہیں جن کے استعمال سے منی گاڑھی ہوجاتی ہے۔
دراصل گاڑھی منی ہی جسم کی جنسی طاقت اور پھرتی کا باعث ہے اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ زیادہ منی ضائع ہوجانے کی وجہ سے مرد مریض و کمزور ہوجاتا ہے۔
کثرتِ رجوع سے بھی منی کمزور اور پتلی ہوجاتی ہے، اس لئے دوسری بار رجوع کے لئے مناسب وقت کا فرق رکھنا بہت ضروری ہے۔ آدمی کے جسم کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ زیادہ منی اکٹھا ہونے پر خواب میں نکل جاتی ہے، اس کو روکنے سے بھی بہت سے امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔

Avatar
admin

Leave a Comment