• 18
  • Oct
  • 0
Author

جڑی بوٹياں اور کشتوں کی اہمیت

یوں تو جنسی امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ان گنت جڑی بوٹیاں اور کشتہ جات ہیں، لیکن ہم اگر سبھی کا ذکر کریں تو اس کے لئے ایک موٹی کتاب الگ سے لکھنی پڑجائے گی، لیکن ہم یہاں آپ کی معلومات میں اضافہ کے لئے کچھ منتخب جڑی بوٹیوں اور کشتوں کے نام لکھ رہے ہیں، جن کی خوبیاں الگ الگ ہیں اور یہ سب مریض کی پوری حالت، مرض کی نوعیت، عمر اور موسم کے مطابق استعمال کی جاتی ہیں۔
ہیرک کشتہ، موتی کشتہ، سوڑ کشتہ، ونگ کشتہ، ابرق کشتہ، لوہا کشتہ، بید کشتہ، سدھ مکر دھوج، کہراوا، پسنی، جائفل، جاوتری، ونش لوچن، اشوگندھا، شلاجیت، چھوٹی الائچی، ہڑ بہیڑا، آنولہ، گوکھرو، کوچ بیج، موسلی شتاوری، ثعلب مصری، ملہٹی، عقر قرحا، سمیل کی جڑ، ودھارا وغیرہ بہت سے ایسے رس ہیں، جن کے اثرات الگ الگ ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے دل و دماغ کی طاقت بڑھتی ہے۔ جگر، گردہ، مثانہ اور بچہ دانی وغیرہ کی کمزوری دور ہوجاتی ہے۔ تھکاوٹ، ڈر، وہم، گھبراہٹ، غصہ، چکر، بے چینی، مزاج میں چڑچڑاپن، کام میں من نہ لگنا، ٹانگوں، بانہوں اور کمر میں درد، تھوڑا سا کام کرنے سے سانس پھول جانا، بھوک کم لگنا، قبض، پیٹ گیس، خون کی کمی وغیرہ جیسی سبھی شکایتیں دور ہوجاتی ہیں۔ ہمارے علاج میں ایسی جڑی بوٹیاں ہیں، کشتہ جات ہیں، جن سے کھایا پیا جلدی ہضم ہو جاتا ہے اور جسم کو بھی لگتا ہے۔ نیا خون بنتا ہے، جس سے چہرے پر رونق اور چمک آجاتی ہے، دل میں ہمت اور جسم میں چستی پیدا ہوتی ہے، کھوئی مردانہ و جسمانی طاقت واپس لوٹ آتی ہے۔ جسم امنگوں اور جوانی کی لہروں سے لہلہا اُٹھتا ہے اور آدمی کو پوری طرح سے مرد کہلانے کا حق مل جاتا ہے۔

Avatar
admin

Leave a Comment